27 ستمبر 2014 - 13:43
برطانوی وزیر اعظم کے بیان کی مذمت کا سلسلہ جاری

ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینئر جوہری مذاکرات کار سید عباس عراقچي نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں برطانوی وزیر اعظم کے ایران مخالف بیان کی مذمت کی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے انٹرنیشنل نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون نے ایسی حالت میں ایران داخلی امور پر بیان دیا کہ اس ملک کی حکومت پر غزہ میں صیہونی حکومت کی بھرپور حمایت کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں اور اس سلسلے میں مغربی ممالک بالخصوص برطانیہ کی پالیسیوں پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔

نائب وزیر خارجہ نے بدھ کو نیویارک میں صدر روحانی اور برطانوی وزیر اعظم کی ملاقات کے بارے میں کہا کہ ملاقات بہت ہی اچھے ماحول میں ہوئی تھی جس کے دوران اہم بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا جس میں سے کچھ کے بارے میں دونوں ممالک کے نظریات مشترک تھے جبکہ کچھ میں اختلاف پائے جاتے تھے۔ نائب وزیر خارجہ نے زور دیا کہ ایران کے ایٹمی مسئلے اور اس مسئلے پر برطانیہ کے رویہ کو لے کر دونوں ممالک میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔
سینئر جوہری مذاکرات کار نے کہا کہ ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات کے بعد برطانوی وزیر اعظم کا اس طرح کا بیان ناقابل قبول ہے اور ان کے بیان کے فورا بعد وزارت خارجہ کی ترجمان نے ان کے بیان کا جواب دیا اور وقت آنے پر اس کا مزید مناسب جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ برطانوی وزير اعظم نے کل ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ شدید اختلافات ہیں اور ایران دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے لیکن اگرداعش دہشت گردوں کے خلاف اتحاد میں ایران شرکت چاہتا ہے تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔
ان کے اس بیان پر وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے کہا کہ برطانیہ نے علاقہ کے عوام کواسرائيل اورداعش دہشت گردوں کے شر میں مبتلا کررکھا ہے اگر برطانیہ اور امریکہ، داعش دہشت گردوں کی شام میں حمایت نہ کرتے تو علاقے میں دہشت گردوں کا کوئي وجود نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور ایران دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے میں ہمیشہ پیشقدم رہا ہے۔
.......

/169